العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا، تَنْقُزَانِ الْقِرَبَ ـ وَقَالَ غَيْرُهُ تَنْقُلاَنِ الْقِرَبَ ـ عَلَى مُتُونِهِمَا، ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلآنِهَا، ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهَا فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) who states: On the day of the Battle of Uhud, the people fled from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He states: I saw (Umm al-Mu'minin) Hadrat ' A'isha bint Abi Bakr (may Allah be well pleased with them both) and Hadrat Umm Sulaym (may Allah be well pleased with her) with their garments tucked up — I could see the anklets on their shins — carrying water-skins on their backs, then pouring water into the mouths of the people, then going back and filling them, then returning to pour water into the mouths of the people.
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: جب غزوۂ اُحد کا دن آیا تو لوگ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے بھاگ گئے۔ فرماتے ہیں: میں نے (اُمّ المؤمنین) حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ بنتِ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور حضرت اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھا کہ وہ دونوں اپنے کپڑے سمیٹے ہوئے تھیں — میں ان کی پنڈلیوں کے پازیب دیکھ رہا تھا — وہ مشکیزے اٹھا اٹھا کر — اور کسی نے کہا: ڈھو ڈھو کر — اپنی پیٹھوں پر لاتیں، پھر لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتیں، پھر واپس جاتیں اور مشکیزے بھرتیں، پھر آکر لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتیں۔
