العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ قَالَ لَهُ سَأَلْتُكَ كَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ فَزَعَمْتَ أَنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ وَدُوَلٌ، فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abdullah bin Abbas (may Allah be well pleased with them both) that Abu Sufyan informed him that Heraclius (the Roman Emperor) said to him: I asked you about your fighting against him (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) and you claimed that the war has been of varying fortunes, sometimes in his favour and sometimes in yours. This is how the Messengers are tested; then the final victory is always theirs.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان نے انہیں خبر دی کہ ہرقل (شاہِ روم) نے حضرت ابوسفیان سے کہا: میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان سے تمہاری جنگ کا کیا حال رہا تو تم نے بتایا کہ جنگ نشیب و فراز کے ساتھ ہوتی رہی، کبھی ان کو فتح ملی اور کبھی تمہیں۔ رسولوں کا حال یہی ہوتا ہے، وہ آزمائے جاتے ہیں، پھر بالآخر انہی کو غلبہ حاصل ہوتا ہے۔
