العربية (الأصل)
وَقَالَ عُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ، وَبَلَغَنَا أَنَّهُ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرُدُّوا إِلَى الْمُشْرِكِينَ مَا أَنْفَقُوا عَلَى مَنْ هَاجَرَ مِنْ أَزْوَاجِهِمْ، وَحَكَمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، أَنْ لاَ يُمَسِّكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ، أَنَّ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَيْنِ قَرِيبَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، وَابْنَةَ جَرْوَلٍ الْخُزَاعِيِّ، فَتَزَوَّجَ قَرِيبَةَ مُعَاوِيَةُ، وَتَزَوَّجَ الأُخْرَى أَبُو جَهْمٍ، فَلَمَّا أَبَى الْكُفَّارُ أَنْ يُقِرُّوا بِأَدَاءِ مَا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ، أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {وَإِنْ فَاتَكُمْ شَىْءٌ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ إِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ} وَالْعَقِبُ مَا يُؤَدِّي الْمُسْلِمُونَ إِلَى مَنْ هَاجَرَتِ امْرَأَتُهُ مِنَ الْكُفَّارِ، فَأَمَرَ أَنْ يُعْطَى مَنْ ذَهَبَ لَهُ زَوْجٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَا أَنْفَقَ مِنْ صَدَاقِ نِسَاءِ الْكُفَّارِ اللاَّئِي هَاجَرْنَ، وَمَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ ارْتَدَّتْ بَعْدَ إِيمَانِهَا. وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَصِيرِ بْنَ أَسِيدٍ الثَّقَفِيَّ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُؤْمِنًا مُهَاجِرًا فِي الْمُدَّةِ، فَكَتَبَ الأَخْنَسُ بْنُ شَرِيقٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُ أَبَا بَصِيرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الترجمة الإنجليزية
'Uqayl narrated from al-Zuhri: 'Urwa said: Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) informed me that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) used to examine them (the women). We learned that when Allah the Exalted revealed that the polytheists should be reimbursed for what they had spent on their emigrating wives, and ruled that the Muslims should not hold on to the marriage bonds of disbelieving women, Hadrat 'Umar al-Faruq (may Allah be well pleased with him) divorced two of his wives: Qurayba bint Abi Umayya and the daughter of Jarwal al-Khuza'i. Hadrat Mu'awiya (may Allah be well pleased with him) married Qurayba, and Abu Jahm married the other. When the disbelievers refused to reimburse what the Muslims had spent on their wives, Allah the Exalted revealed: 'And if any of your wives have gone from you to the disbelievers, and you later have your turn' -- and al-'Aqib (recompense) is what the Muslims pay to the one whose wife emigrated from among the disbelievers. He commanded that whoever lost a wife to the disbelievers should be given from the dowries of the disbelievers' wives who had emigrated. We do not know of any emigrant woman who apostatized after her faith. We learned that Hadrat Abu Basir bin Asid al-Thaqafi (may Allah be well pleased with him) came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) as a believing emigrant during the treaty period. Al-Akhnas bin Shariq wrote to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) requesting Abu Basir's return -- then the hadith was mentioned.
الترجمة الأردية
اور عقیل نے زہری سے (بیان کیا)، عروہ نے فرمایا: حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان (عورتوں) کا امتحان لیتے تھے۔ ہمیں خبر ملی کہ جب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا کہ مشرکوں کو ان کی ہجرت کرنے والی بیویوں پر جو خرچ کیا تھا واپس کیا جائے، اور مسلمانوں پر حکم فرمایا کہ وہ کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھیں، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو بیویوں کو طلاق دی: قریبہ بنت ابی امیہ اور ابنت جرول خزاعی۔ قریبہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکاح کیا اور دوسری سے ابو جہم نے۔ جب کفار نے مسلمانوں کی بیویوں پر کیے ہوئے خرچ کی ادائیگی سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی تمہارے ہاتھ سے نکل کر کفار کے پاس چلی جائے پھر تمہاری باری آئے (تو ان کو دو جن کی بیویاں چلی گئیں اتنا ہی جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا)۔ عَقِب سے مراد وہ ہے جو مسلمان اس کافر کو ادا کریں جس کی بیوی ہجرت کر آئی تھی۔ حکم دیا کہ جس مسلمان کی بیوی (کفار کے پاس) چلی جائے اسے کافروں کی ان ہجرت کرنے والی عورتوں کے مہر سے ادائیگی دی جائے جو (مسلمانوں کے پاس) آ گئیں۔ اور ہمیں معلوم نہیں کہ کوئی مہاجر عورت اپنے ایمان کے بعد مرتد ہوئی ہو۔ ہمیں خبر ملی کہ ابو بصیر بن اسید ثقفی (معاہدے کی) مدت کے دوران مؤمن اور مہاجر ہو کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو اخنس بن شریق نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خط لکھ کر ابو بصیر کو واپس مانگا، پھر حدیث ذکر کی۔
