العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَغَيْرُهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ إِنَّا لَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ حَدَّثَنِي أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُوسَى رَسُولُ اللَّهِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} كَانَتِ الأُولَى نِسْيَانًا، وَالْوُسْطَى شَرْطًا، وَالثَّالِثَةُ عَمْدًا {قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا}. {لَقِيَا غُلاَمًا فَقَتَلَهُ} فَانْطَلَقَا فَوَجَدَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ. قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ.
الترجمة الإنجليزية
Narrated through Sa'id bin Jubayr (upon him be mercy): We were with Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with them both). He said: Hadrat Ubayy bin Ka'b (may Allah be well pleased with him) narrated to me that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Musa, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (upon him be peace)' -- then he mentioned the hadith (about Khidr, upon him be peace): He said: 'Did I not say that you will not be able to have patience with me?' The first time was forgetfulness, the middle time was a condition, and the third time was deliberate. (Musa, upon him be peace) said: 'Do not take me to task for my forgetfulness, and do not impose difficulty on me in my affair.' They met a boy and he (Khidr, upon him be peace) killed him. Then they went and found a wall about to collapse, so he (Khidr, upon him be peace) set it straight. Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with them both) read it as: 'Ahead of them was a king (who seized every good boat by force).'
الترجمة الأردية
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہمیں ہشام نے خبر دی، ابن جریج نے انہیں خبر دی، کہا مجھے یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے خبر دی، سعید بن جبیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے، ان میں سے ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتا ہے اور ان دونوں کے علاوہ اور لوگوں کو بھی میں نے سعید بن جبیر سے بیان کرتے سنا۔ انہوں نے فرمایا: ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس تھے۔ انہوں نے فرمایا: مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: موسیٰ اللہ کے رسول (علیہ السلام)۔ پھر (خضر علیہ السلام والی) حدیث بیان کی: (خضر علیہ السلام نے) فرمایا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے؟ پہلی بار بھول تھی، درمیانی (دوسری) بار شرط تھی اور تیسری بار عمداً تھی۔ (موسیٰ علیہ السلام نے) فرمایا: میری بھول پر میرا مؤاخذہ نہ فرمائیے اور میرے معاملے میں مجھ پر تنگی نہ فرمائیے۔ ان دونوں نے ایک لڑکے کو پایا اور اسے قتل کیا۔ پھر دونوں چلے تو ایک دیوار پائی جو گرنے والی تھی، خضر (علیہ السلام) نے اسے سیدھا کر دیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے پڑھا: ان کے آگے ایک بادشاہ تھا (جو ہر اچھی کشتی چھین لیتا تھا)۔
