العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ آلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَجَلَسَ فِي عِلِّيَّةٍ لَهُ، فَجَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ قَالَ " لاَ، وَلَكِنِّي آلَيْتُ مِنْهُنَّ شَهْرًا ". فَمَكُثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ نَزَلَ، فَدَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) took an oath not to visit his blessed wives for one month. His blessed foot had been sprained, so he stayed in an upper chamber. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) came and submitted: 'Have you divorced your wives?' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'No, but I have sworn not to visit them for one month.' He (blessings and peace of Allah be upon him) stayed there for twenty-nine days, then came down and went to his blessed wives.
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواجِ مطہرات کے پاس ایک مہینے تک نہ جانے کی قسم کھائی تھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک میں موچ آ گئی تھی، چنانچہ آپ اپنے بالاخانے میں قیام پذیر ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا: کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے ایک مہینے کے لیے ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انتیس دن وہاں رہے، پھر نیچے تشریف لائے اور ازواجِ مطہرات کے پاس تشریف لے گئے۔
