صحيح البخاريLost Things Picked up by Someone (Luqatah)#2434صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، فَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلاَ تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُفْدَى، وَإِمَّا أَنْ يُقِيدَ ". فَقَالَ الْعَبَّاسُ إِلاَّ الإِذْخِرَ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِلاَّ الإِذْخِرَ ". فَقَامَ أَبُو شَاهٍ ـ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ـ فَقَالَ اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ ". قُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ مَا قَوْلُهُ اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that when Allah the Exalted granted His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) victory over Makkah, he (blessings and peace of Allah be upon him) stood among the people, praised and glorified Allah the Exalted, then stated: 'Indeed, Allah the Exalted held back the elephants (army) from Makkah but gave authority over it to His Messenger and the believers. Fighting in it was not lawful for anyone before me and was made lawful for me only for a part of a day. It will not be lawful for anyone after me. Its game is not to be disturbed, its thorns are not to be cut, and picking up its fallen items is not permissible except for one who makes a public announcement. Whoever has a relative killed has the choice of two options: either compensation (blood-money) or retaliation.' Hadrat Abbas (may Allah be well pleased with him) submitted: 'Except Idhkhir, for we use it for our graves and houses.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Except Idhkhir.' Then Abu Shah, a Yemeni Companion, stood up and submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Have it written down for me.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Write it down for Abu Shah.' (The narrator said:) I asked Al-Awza'i what Abu Shah meant by his request. He said: The sermon that he had heard from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ عطا فرمائی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں (کے لشکر) کو مکہ سے روک دیا تھا لیکن اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر غلبہ عطا فرمایا۔ یہ (شہر مکہ میں لڑنا) مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا اور میرے لیے دن کے ایک مختصر وقت میں حلال کیا گیا۔ میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہ ہوگا۔ پس اس کے شکار نہ بھڑکائے جائیں، اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں، اس میں گری پڑی چیز اٹھانا حلال نہیں مگر اس کے لیے جو اعلان کرے۔ اور جس کا کوئی آدمی قتل کیا جائے تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے: یا فدیہ (خون بہا) لے لے، یا قصاص۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: اذخر مستثنیٰ فرمائیں کیونکہ ہم اسے اپنی قبروں اور گھروں میں استعمال کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوائے اذخر کے۔ پھر ابوشاہ نامی ایک یمنی صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ (خطبہ) میرے لیے لکھوا دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔ (راوی نے کہا:) میں نے امام اوزاعی سے پوچھا کہ ان کے «میرے لیے لکھوا دیجیے» سے کیا مراد تھی؟ تو انہوں نے فرمایا: وہی خطبہ مراد ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ: { لَمَّا فَتَحَ اَللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صلى الله عليه وسلم -مَكَّةَ, قَامَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -فِي اَلنّ…
861 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْه…
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، فَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلاَ تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُفْدَى، وَإِمَّا أَنْ يُقِيدَ ". فَقَالَ الْعَبَّاسُ إِلاَّ الإِذْخِرَ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِلاَّ الإِذْخِرَ ". فَقَامَ أَبُو شَاهٍ ـ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ـ فَقَالَ اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ ". قُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ مَا قَوْلُهُ اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that when Allah the Exalted granted His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) victory over Makkah, he (blessings and peace of Allah be upon him) stood among the people, praised and glorified Allah the Exalted, then stated: 'Indeed, Allah the Exalted held back the elephants (army) from Makkah but gave authority over it to His Messenger and the believers. Fighting in it was not lawful for anyone before me and was made lawful for me only for a part of a day. It will not be lawful for anyone after me. Its game is not to be disturbed, its thorns are not to be cut, and picking up its fallen items is not permissible except for one who makes a public announcement. Whoever has a relative killed has the choice of two options: either compensation (blood-money) or retaliation.' Hadrat Abbas (may Allah be well pleased with him) submitted: 'Except Idhkhir, for we use it for our graves and houses.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Except Idhkhir.' Then Abu Shah, a Yemeni Companion, stood up and submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Have it written down for me.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Write it down for Abu Shah.' (The narrator said:) I asked Al-Awza'i what Abu Shah meant by his request. He said: The sermon that he had heard from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ عطا فرمائی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں (کے لشکر) کو مکہ سے روک دیا تھا لیکن اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر غلبہ عطا فرمایا۔ یہ (شہر مکہ میں لڑنا) مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا اور میرے لیے دن کے ایک مختصر وقت میں حلال کیا گیا۔ میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہ ہوگا۔ پس اس کے شکار نہ بھڑکائے جائیں، اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں، اس میں گری پڑی چیز اٹھانا حلال نہیں مگر اس کے لیے جو اعلان کرے۔ اور جس کا کوئی آدمی قتل کیا جائے تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے: یا فدیہ (خون بہا) لے لے، یا قصاص۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: اذخر مستثنیٰ فرمائیں کیونکہ ہم اسے اپنی قبروں اور گھروں میں استعمال کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوائے اذخر کے۔ پھر ابوشاہ نامی ایک یمنی صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ (خطبہ) میرے لیے لکھوا دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔ (راوی نے کہا:) میں نے امام اوزاعی سے پوچھا کہ ان کے «میرے لیے لکھوا دیجیے» سے کیا مراد تھی؟ تو انہوں نے فرمایا: وہی خطبہ مراد ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا۔