العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ، وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلاَثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرٌ، فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ، فَكَلَّمَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ فَأَبَى، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّخْلَ، فَمَشَى فِيهَا ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ " جُدَّ لَهُ فَأَوْفِ لَهُ الَّذِي لَهُ ". فَجَدَّهُ بَعْدَ مَا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَوْفَاهُ ثَلاَثِينَ وَسْقًا، وَفَضَلَتْ لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ وَسْقًا، فَجَاءَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُخْبِرَهُ بِالَّذِي كَانَ، فَوَجَدَهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُ بِالْفَضْلِ، فَقَالَ " أَخْبِرْ ذَلِكَ ابْنَ الْخَطَّابِ ". فَذَهَبَ جَابِرٌ إِلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ عَلِمْتُ حِينَ مَشَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُبَارَكَنَّ فِيهَا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Jabir bin Abdullah (may Allah be well pleased with them both) that when his father passed away, he left behind a debt of thirty Awsuq owed to a Jew. Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) asked the Jew for respite, but he refused. Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) requested the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to intercede on his behalf. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came and asked the Jew to accept the fruits of Hadrat Jabir's garden in settlement of the debt, but he refused. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) then entered the garden and walked among the date-palms. He then stated to Hadrat Jabir: 'Pluck the dates and pay him what he is owed in full.' After the departure of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), Hadrat Jabir plucked the dates and paid the full thirty Awsuq, with seventeen Awsuq remaining over. Hadrat Jabir came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to inform him, but found him offering the Asr prayer. When he finished, Hadrat Jabir informed him about the surplus. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Inform (Umar) Ibn al-Khattab of this.' Hadrat Jabir went to Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) and told him. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: 'I was certain, the moment the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) walked in your garden, that it would be blessed.'
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب ان کے والد (حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) وفات پا گئے تو ایک یہودی کے تیس وسق قرض اپنے ذمے چھوڑ گئے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے مہلت مانگی مگر اس نے انکار کر دیا۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا تاکہ آپ اس یہودی سے سفارش فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور یہودی سے فرمایا کہ حضرت جابر کے باغ کی کھجوریں اس قرض کے بدلے میں لے لے، لیکن اس نے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم باغ میں داخل ہوئے اور کھجور کے درختوں میں چلتے رہے، پھر حضرت جابر سے ارشاد فرمایا: کھجوریں توڑو اور اس کا پورا قرض ادا کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی واپسی کے بعد انہوں نے کھجوریں توڑیں اور تیس وسق ادا کر دیے، اور سترہ وسق پھر بھی بچ رہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہ خوشخبری سنانے آئے لیکن آپ عصر کی نماز ادا فرما رہے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو انہوں نے زائد کھجوروں کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ خبر (حضرت عمر) ابن الخطاب کو بھی سناؤ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: مجھے تو اسی وقت یقین ہو گیا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم باغ میں چل رہے تھے کہ ضرور اس میں برکت ہوگی۔
