العربية (الأصل)
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بِعْتُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ مَالاً بِالْوَادِي بِمَالٍ لَهُ بِخَيْبَرَ، فَلَمَّا تَبَايَعْنَا رَجَعْتُ عَلَى عَقِبِي حَتَّى خَرَجْتُ مِنْ بَيْتِهِ، خَشْيَةَ أَنْ يُرَادَّنِي الْبَيْعَ، وَكَانَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَمَّا وَجَبَ بَيْعِي وَبَيْعُهُ رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ غَبَنْتُهُ بِأَنِّي سُقْتُهُ إِلَى أَرْضِ ثَمُودٍ بِثَلاَثِ لَيَالٍ وَسَاقَنِي إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلاَثِ لَيَالٍ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both) who states: I sold my land in al-Wadi to the Commander of the Faithful Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him) in exchange for his land in Khaybar. When we concluded the transaction, I immediately turned back on my heels and left his house, fearing that he might revoke the sale. For the established practice was that the buyer and seller have the option (to cancel) until they separate. Hadrat Abdullah (may Allah be well pleased with him) states: When the sale became binding, I realized that I had been unfair to him, for (as a result of the exchange) I had directed him to the land of Thamud, at a distance of three days' journey, while he had brought me closer to Madinah, also at a distance of three days' journey.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی وادی قریٰ کی زمین ان کی خیبر کی زمین کے بدلے بیچی۔ جب ہم نے بیع کر لی تو میں الٹے پاؤں ان کے گھر سے فوراً باہر نکل گیا، اس خدشے سے کہ کہیں وہ بیع فسخ نہ کر دیں۔ کیونکہ سنت یہ تھی کہ خریدار اور بیچنے والے کو (بیع فسخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب بیع پکی ہو گئی تو مجھے اندازہ ہوا کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے، کیونکہ (تبادلے کے نتیجے میں) میں نے انہیں سرزمینِ ثمود کی طرف تین دن کی مسافت پر بھیج دیا تھا، اور انہوں نے مجھے مدینہ سے صرف تین دن کی مسافت پر لا چھوڑا تھا۔
