العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ، بَعْدَ مَا تَرَجَّلَ وَادَّهَنَ وَلَبِسَ إِزَارَهُ وَرِدَاءَهُ، هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمْ يَنْهَ عَنْ شَىْءٍ مِنَ الأَرْدِيَةِ وَالأُزْرِ تُلْبَسُ إِلاَّ الْمُزَعْفَرَةَ الَّتِي تَرْدَعُ عَلَى الْجِلْدِ، فَأَصْبَحَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَقَلَّدَ بَدَنَتَهُ، وَذَلِكَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، فَقَدِمَ مَكَّةَ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ بُدْنِهِ لأَنَّهُ قَلَّدَهَا، ثُمَّ نَزَلَ بِأَعْلَى مَكَّةَ عِنْدَ الْحَجُونِ، وَهْوَ مُهِلٌّ بِالْحَجِّ، وَلَمْ يَقْرَبِ الْكَعْبَةَ بَعْدَ طَوَافِهِ بِهَا حَتَّى رَجَعَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ يُقَصِّرُوا مِنْ رُءُوسِهِمْ ثُمَّ يَحِلُّوا، وَذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ بَدَنَةٌ قَلَّدَهَا، وَمَنْ كَانَتْ مَعَهُ امْرَأَتُهُ فَهِيَ لَهُ حَلاَلٌ، وَالطِّيبُ وَالثِّيَابُ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abdullah bin Abbas (may Allah be well pleased with them both) that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) departed from Madinah after combing and oiling his hair and wearing his Izar (lower garment) and Rida (upper garment), together with his Companions. He did not forbid any kind of Rida or Izar except those dyed with saffron that might leave color on the skin. In the morning he arrived at Dhul Hulaifa, mounted his riding camel, and when he reached al-Baida', he and his Companions recited the Talbiyah and garlanded their sacrificial camels. This was on the 25th of Dhul Qa'dah. When he arrived in Makkah on the 4th of Dhul Hijjah, he performed Tawaf of the Ka'bah and Sa'i between Safa and Marwa but did not end his Ihram because he had his sacrificial camels garlanded with him. He then camped at the upper part of Makkah near al-Hajun, still in the state of Ihram for Hajj. He did not approach the Ka'bah again after his Tawaf until he returned from Arafat. He ordered his Companions to perform Tawaf of the Ka'bah and Sa'i between Safa and Marwa, then to trim their hair and end their Ihram. This was for those who did not have sacrificial animals with them. Whoever had his wife with him could be intimate with her, and perfume and regular clothing were also permissible for them.
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے کریب نے خبر دی اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کنگھا کر کے، تیل لگا کر اور ازار و ردا پہن کر اپنے صحابہ کرام کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے زعفران میں رنگے ہوئے ایسے کپڑے کے سوا جس کا رنگ جلد پر لگے، کسی قسم کی ردا یا ازار پہننے سے منع نہیں فرمایا۔ صبح آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے، سواری پر سوار ہوئے اور جب بیداء پر پہنچے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے تلبیہ پکارا اور قربانی کے اونٹوں کی گردنوں میں ہار ڈالے۔ یہ ذی قعدہ کی پچیسویں کا واقعہ ہے۔ پھر جب مکہ مکرمہ پہنچے تو ذی الحجہ کی چار تاریخ تھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی فرمائی لیکن احرام نہیں کھولا کیونکہ قربانی کے جانور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور ان کی گردنوں میں ہار ڈال دیے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حَجون کے نزدیک مکہ مکرمہ کے بالائی حصے میں اترے اور حج کا احرام باقی تھا۔ طواف کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عرفات سے واپسی تک کعبۃ اللہ کے قریب نہیں گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کریں، پھر بال ترشوا کر حلال ہو جائیں۔ یہ حکم ان لوگوں کے لیے تھا جن کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں تھے۔ جن کے ساتھ ان کی بیویاں تھیں وہ ان سے ہمبستر ہو سکتے تھے اور خوشبو اور (سلے ہوئے) کپڑے بھی ان کے لیے جائز تھے۔
