العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ. قَالَ مَا لَهُ مَا لَهُ وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَرَبٌ مَالَهُ، تَعْبُدُ اللَّهَ، وَلاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ". وَقَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، وَأَبُوهُ، عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، بِهَذَا. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَخْشَى أَنْ يَكُونَ، مُحَمَّدٌ غَيْرَ مَحْفُوظٍ إِنَّمَا هُوَ عَمْرٌو.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Ayyub (may Allah be well pleased with him) narrated that a person submitted to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), 'Tell me of such a deed as will admit me into Paradise.' The people remarked, 'What is the matter with him?' But the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'He has a genuine need. (Listen,) worship Allah and do not ascribe any partner to Him, establish prayer, pay the Zakat, and maintain ties of kinship.' Bahz narrated from Shu'ba, from Muhammad bin Uthman and his father Hadrat Uthman bin Abdullah, that they both heard from Musa bin Talha, from Hadrat Abu Ayyub (may Allah be well pleased with him) a similar narration. Abu Hadrat Abdullah (Imam al-Bukhari, upon him be mercy) stated, 'I fear Muhammad's narration is not preserved; it is actually Amr bin Uthman (who narrated it).'
الترجمة الأردية
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے محمد بن حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب سے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن حضرت طلحہ نے اور ان سے حضرت ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آخر یہ کیا چاہتا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ تو بہت اہم ضرورت ہے۔ (سنو) اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ۔ نماز قائم کرو۔ زکوٰۃ دو اور صلہ رحمی کرو۔ اور بہز نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن حضرت عثمان اور ان کے والد حضرت عثمان بن عبداللہ نے بیان کیا کہ ان دونوں صاحبان نے موسیٰ بن حضرت طلحہ سے سنا اور انہوں نے حضرت ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی حدیث کی طرح (سنا)۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ محمد سے روایت غیر محفوظ ہے اور روایت عمرو بن حضرت عثمان سے (محفوظ ہے)۔
