العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ، إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلاَهُ، وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلاَهُ بَدَا رَأْسُهُ ـ وَأُرَاهُ قَالَ ـ وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ ـ أَوْ قَالَ أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا ـ وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ.
الترجمة الإنجليزية
Narrated by Hadrat Ibrahim (upon him be mercy): Food was brought before Hadrat 'Abdur-Rahman bin 'Awf (may Allah be well pleased with him) while he was fasting. He said, Hadrat 'Mus'ab bin 'Umair (may Allah be well pleased with him) was martyred, and he was better than me. He was shrouded in only a single sheet — when his head was covered with it, his feet became exposed, and when his feet were covered, his head became exposed. And (I think he also said) Hadrat Hamza (may Allah be well pleased with him) was also martyred, and he was better than me. Then the worldly wealth was spread out for us as much as it was — or he said: we were given of this world what we were given — and we fear that the rewards of our good deeds may have been hastened for us (in this world).' Then he began to weep so much that he left the food.
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، ہمیں عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خبر دی، ہمیں شعبہ نے خبر دی، ان سے سعد بن ابراہیم نے اور ان سے ان کے والد ابراہیم نے فرمایا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کھانا حاضر کیا گیا، آپ روزے سے تھے۔ آپ نے فرمایا: حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔ ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر میسر ہوئی؛ اگر اس سے سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر کھل جاتا۔ اور (میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے فرمایا) حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی (اسی طرح) شہید ہوئے اور وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ پھر ہمارے لیے دنیا کی وسعت جتنی ہوئی سو ہوئی — یا فرمایا: دنیا ہمیں جتنی دی گئی سو دی گئی — اور ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ ہمیں (اسی دنیا میں) جلدی دے دیا گیا ہو۔ پھر آپ اس قدر رونے لگے کہ کھانا بھی چھوڑ دیا۔
