العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ قَالَ نا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ نا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ عَنْ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ لَا قَصِيرَ وَلَا طَوِيلَ حَسَنَ الشَّعْرِ رَجِلَهُ مَشُوبًا وَجْهُهُ حُمْرَةً ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَنْزِلُ فِي صَبَبٍ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ لَا قَصِيرَ وَلَا طَوِيلَ حَسَنَ الشَّعْرِ رَجِلَهُ مَشُوبًا وَجْهُهُ حُمْرَةً ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَنْزِلُ فِي صَبَبٍ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: «Do you know who the bankrupt person is?» They said: "The bankrupt among us is one who has no dirham nor property." He stated: «The bankrupt person from my community is one who comes on the Day of Resurrection with prayer, fasting, and charity, but he comes having insulted this one, slandered that one, consumed the wealth of this one, shed the blood of that one, and beaten this one. Each of them will be given from his good deeds. If his good deeds are exhausted before the settlement is completed, their sins will be taken and cast upon him. Then he will be thrown into the Fire.»
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟» انہوں نے کہا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی درہم اور نہ کوئی مال ہو۔ آپ نے ارشاد فرمایا: «میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، اور صدقہ لے کر آئے، لیکن وہ اس حال میں آئے کہ اس نے اسے گالی دی، اس پر تہمت لگائی، اس کا مال کھایا، اس کا خون بہایا، اور اسے مارا۔ ان میں سے ہر ایک کو اس کی نیکیوں سے دیا جائے گا۔ اگر حساب پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں، تو ان کے گناہ لے کر اس پر ڈالے جائیں گے۔ پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔»
