العربية (الأصل)
571/739 عن محمد بن زياد قال: أدركت السلف، وإنهم ليكونون في المنزل الواحد بأهاليهم، فربما نزل على بعضهم الضيف، وقدر أحدهم على النار، فيأخذها صاحب الضيف لضيفه، فيفقد القدر صاحبها. فيقول: من أخذ القدر؟ فيقول صاحب الضيف: نحن أخذناها لضيفنا. فيقول صاحب القدر:"بارك الله لكم فيها"(أو كلمة نحوها). قال بقية: وقال محمد: والخبز إذا خبزوا مثل ذلك، وليس بينهم إلا جُدُر القصب. قال بقية(1): وأدركت أنا ذلك: محمد بن زياد وأصحابه.
الترجمة الإنجليزية
Muhammad ibn Ziyad reported: I witnessed the early Muslims (the Companions), and they would live in the same house with their families. Sometimes a guest would come to one of them while another had a pot on the fire. The host would take the pot for his guest. The owner of the pot would miss it and ask: Who took the pot? The host would say: We took it for our guest. The pot owner would say: 'May Allah bless you in it.' Baqiyyah said: Muhammad said: The same happened with bread when they baked — and there were only reed partitions between them.
الترجمة الأردية
محمد بن زیاد بیان کرتے ہیں کہ میں نے سلف (صحابہ) کا زمانہ پایا ہے۔ یہ لوگ ایک ہی مکان میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ کسی کے پاس مہمان آتا اور دوسرے کی دیگچی آگ پر ہوتی۔ صاحب مہمان وہ دیگچی اپنے مہمان کے لیے لے جاتا۔ جس کی دیگچی ہوتی وہ اپنی دیگچی نہ پاتا تو پوچھتا دیگچی کون لے گیا، مہمان جس کے پاس ہوتا وہ کہتا ہم نے مہمان کے لیے لے لی ہے۔ دیگچی کا مالک کہتا: اللہ تجھے اس میں برکت دے، یا اسی قسم کا کوئی جملہ کہہ دیتا۔ بقیہ نے کہا: محمد کہتے تھے: روٹی پکانے میں بھی یہی ہوتا تھا۔ اور ان دونوں گھرانوں کے مابین لکڑی کی دیواریں ہی ہوتی تھیں۔ بقیہ کہتے ہیں: میں نے بھی یہ پایا یعنی محمد بن زیاد اور ان کے دوستوں کا یہی حال پایا۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 571]
