العربية (الأصل)
563/727 عن أنس قال: قال رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم: اللهم[إن]لم تعطني مالاً فأتصدق به، فابتلني ببلاء يكون- أو قال: - فيه أجر. فقال:" سبحان الله، لا تطيقه! ألا قلت: اللهم آتنا في الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار؟".
الترجمة الإنجليزية
Anas reported: A man said in the presence of the Prophet (peace be upon him): 'O Allah, if You will not give me wealth to give in charity, then afflict me with a trial in which there is reward.' The Prophet (peace be upon him) said: 'Glory be to Allah! You cannot bear it! Why did you not say: O Allah, give us good in this world and good in the Hereafter, and protect us from the punishment of the Fire?'
الترجمة الأردية
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے ایک شخص نے کہا: اے اللہ! تو اگر مجھے مال نہ دے جس کا میں صدقہ کروں تو مجھے کسی ایسی آزمائش میں گرفتار کر دے جس میں میرے لیے اجر ہو۔ تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے کہا:”سبحان اللہ، تم اس بات کی طاقت نہیں رکھتے، تم نے یوں کیوں نہیں کہا: اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ایک روایت میں ان سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ وہ داخل ہوئے۔ میں نے حمید سے کہا کیا نبیصلی اللہ علیہ وسلمداخل ہوئے انہوں نے کہا: ہاں، آپصلی اللہ علیہ وسلمایک آدمی کے پاس گئے جو بیمار ی سے لاچار ہو چکا تھا گویا کہ وہ چوزہ ہے جس کے پر اکھاڑے گئے، تو اس سے فرمایا:”تم اللہ سے کسی چیز کی دعا کرو یا کچھ مانگو۔“تو وہ آدمی کہنے لگا: یا اللہ جو تو نے مجھے قیامت کو عذاب کرنا ہے وہ دنیا میں ہی کر لے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”سبحان اللہ، تم اس کی طاقت نہیں رکھتے“یا کہا:”تم سب اس کی استطاعت نہیں رکھتے، تم نے یوں کیوں نہ کہا:«اللهم آتنا فى الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار»اور آپ نے اس کے حق میں دعا کی تو اللہ نے شفا دی۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 563]
