العربية (الأصل)
539/695 عن ابن عباس قال: بتّ عند[خالتي]ميمونة، فقام النبي صلى الله عليه وسلم فأتى حاجته، فغسل وجهه ويديه ثم نام، ثم قام فأتى القربة فأطلق شناقها، ثم توضأ وضوءاً بين وضوءين؛ لم يُكثر وقد أبلغ، فصلى، فقمت فتمطيت؛ كراهية أن يرى أني كنتُ أبقيه، فتوضأت. فقام يصلي، فقمت عند يساره، فأخذ بأذني فأدارني عن يمينه، فتتامّت صلاته[ من الليل]ثلاث عشرة ركعة، ثم اضطجع فنام حتى نفخ، وكان إذا نام نفخ، فآذنه بلال بالصلاة فصلى ولم يتوضأ. وكان في دعائه:"اللهم اجعل في قلبي نوراً، وفي سمعي نوراً، وعن يميني نوراً، وعن يساري نوراً، وفوقي نوراً، وتحتي نوراً وأمامي نوراً وخلفي نوراً، وأعظم لي نوراً". قال كريب: وسبعاً في التابوت(3)فلقيت رجلاً من ولد العباس فحدثني بهن، فذكر: عصبي، ولحمي، ودمي، وشعري، وبشري، وذكر خصلتين.
الترجمة الإنجليزية
Ibn 'Abbas reported: I spent the night at the house of my aunt Maymunah. The Prophet (peace be upon him) got up, attended to his need, washed his face and hands, then slept. Then he got up, went to the water-skin and loosened its strap, performed a moderate ablution — not using excessive water but thorough — and prayed. I got up and stretched, not wanting him to see that I had been watching. I performed ablution, and he stood to pray. I stood to his left, so he took hold of my ear and moved me to his right. His night prayer totaled thirteen rak'ahs. Then he lay down and slept until he snored — and when he slept, he would snore. Then Bilal called him to prayer, and he prayed without performing ablution. In his supplication he said: 'O Allah, place light in my heart, light in my hearing, light to my right, light to my left, light above me, light below me, light before me, light behind me, and magnify light for me.' Kurayb said: And seven in the casket. I met a man from the descendants of al-'Abbas, who told me seven more, mentioning: my muscles, my flesh, my blood, my hair, and my skin, and two more.
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات گزاری، تو نبیصلی اللہ علیہ وسلماٹھے اور اپنی حاجت کو گئے، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنا چہرہ دھویا اور اپنے ہاتھ دھوئے پھر سو گئے، پھر اٹھے مشکیزہ کے قریب آئے اس کا منہ کھولا آپ نے درمیانہ درجہ کا وضو کیا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے بہت زیادہ پانی نہ بہایا مگر مکمل بلیغ وضو کیا اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے نماز پڑھی پھر میں بھی اٹھا، میں نے انگڑائی لی، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ کہیں آپصلی اللہ علیہ وسلمیہ نہ سمجھیں کہ میں پہلے سے جاگ رہا تھا اس کے بعد میں نے وضو کیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمکھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے میں بھی جا کر آپصلی اللہ علیہ وسلمکے بائیں طرف کھڑا ہو گیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے میرا کان پکڑا اور گھما کر مجھے دائیں طرف کھڑا کر دیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے رات کی نماز کی تیرہ رکعتیں مکمل کیں، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلملیٹے اور سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، آپصلی اللہ علیہ وسلمجب بھی سوتے تھے خراٹے لیتے تھے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو نماز کی اطلاع دی۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے (اٹھ کر صبح کی) نماز پڑھا دی اور وضو نہیں کیا (اس لیے کہ انبیاء کی یہ خصوصیت ہے کہ ان کا لیٹتے ہوئے وضو نہیں ٹوٹتا) آپصلی اللہ علیہ وسلمکی دعا میں یہ کلمات تھے:«اللهم اجعل فى قلبي نوراً، وفي سمعي نوراً، وعن يميني نوراً، وعن يساري نوراً، وفوقي نوراً، وتحتي نوراً وأمامي نوراً وخلفي نوراً، وأعظم لي نوراً»۔ کریب نے کہا: سات قسم کی دعائیں ڈھانچے میں تھیں تو میں عباس کی اولاد میں سے ایک شخص سے ملا تو اس نے یہ سات بیان کر دیں، تو اس نے بیان کیا: میرے پٹھوں میں، میرے گوشت میں، میرے خون میں، میرے بالوں میں اور میری کھال میں (نور کر دے) دو چیزیں اور ذکر کیں۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 539]
