العربية (الأصل)
471/602 عن سالم، عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل يعظ(وفي رواية … يعاتب)أخاه في الحياء،[ حتى كأنه يقول: أضرّ بك]فقال:" دعهُ؛ فإن الحياء من الإيمان".
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, 'Whoever has a daughter and does not bury her alive, does not insult her, and does not favor his son over her, Allah will admit him to Paradise.'
الترجمة الأردية
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں وعظ کر رہا تھا (اس پر ناراض ہو رہا تھا اور اس کو ڈانٹ رہا تھا) یہاں تک کہ وہ یہ کہہ رہا تھا: تم اتنی حیا کرتے ہو کہ تمہیں نقصان ہوتا ہے آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اسے چھوڑ دو، بیشک حیا ایمان میں سے ہے۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 471]
