العربية (الأصل)
185/246 عن عطاء بن يسار قال: لقيتُ عبد الله بن عمرو بن العاص، فقلتُ: أخبرني عن صفة رسول الله صلى الله عليه وسلم في التوراة، قال: فقال:" أجل، والله! إنه لموصوف في التوراة ببعض صفته في القرآن:?يا أيها النبي إنا أرسناك شاهداً(1)ومبشراً ونذيراً?[الأحزاب: 45]. وحرزاً للأميين، أنت عبدي ورسولي، سميتك: المتوكل، ليس بفظّ ولا غليظ، ولا صخّاب في الأسواق، ولا يدفعُ بالسيئة السيئة. ولكن يعفو ويغفرُ، ولن يقبضه الله تعالى، حتى يقيم به الملة العوجاء؛ بأن يقولوا: لا إله إلا الله، ويفتحوا بها أعيناً عمياً، وآذاناً صماً، وقلوباً غُلفاً".
الترجمة الإنجليزية
Ata' ibn Yasar reported: I met Abdullah ibn Amr ibn al-As and said, 'Tell me about the description of the Messenger of Allah, peace be upon him, in the Torah.' He said: 'Yes, by Allah! He is indeed described in the Torah with some of his description in the Quran: "O Prophet, We have sent you as a witness, a bearer of glad tidings, and a warner" [33:45], and as a protector for the unlettered people. You are My servant and My messenger. I have named you the one who relies upon Allah. He is neither harsh nor hard-hearted, nor does he raise his voice in the marketplaces. He does not repay evil with evil, but rather pardons and forgives. Allah will not take him until He straightens the crooked nation through him — that they may say: There is no god but Allah — and through it open blind eyes, deaf ears, and sealed hearts.'
الترجمة الأردية
عطاء بن یسار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے (ان سے) کہا: مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے وہ اوصاف بتائیں جو تورات میں ہیں، انہوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! تورات میں آپصلی اللہ علیہ وسلمکی کچھ وہ صفات ہیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں: «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا»”اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم نے تمہیں گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کے بھیجا ہے۔“) اور امی قوم کے لیے حفاظت کرنے والا، تم میرے بندے اور رسول ہو، میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے، آپ نہ سخت طبیعت ہیں اور نہ سخت دل ہیں، نہ بازار میں شور بلندکرنے والے ہیں اور نہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے ہیں بلکہ آپ معاف اور درگزر کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ انہیں دنیا سے اس وقت تک ہرگز نہ اٹھائے گا یہاں تک کہ ان کے سبب سے ٹیڑھی قوم کو سیدھا کر دے یہ کہ وہ لا الہ الا اللہ کہنے لگیں اور اس کے ساتھ وہ اندھی آنکھیں، بہرے کانوں اور غلاف میں لپٹے ہوئے دلوں کو کھولیں گے۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 185]
