العربية (الأصل)
120/162 عن عمرة؛ أن عائشة رضي الله عنها دبرت أمة لها، فاشتكت عائشة، فسأل بنو أخيها طبيباً من الزّط(1). فقال: إنكم تخبروني عن امرأةٍ مسحورة، سحرتها أمة لها، فأخبرت عائشة. قالت: سحرتيني؟ فقالت: نعم(2). فقالت: ولمَ؟ لا تنجين أبداً. ثم قالت:"بيعوها من شر العرب مَلَكة(3)"(4).
الترجمة الإنجليزية
Amrah reported that Aishah, may Allah be pleased with her, made one of her slave women a mudabbarah (to be freed upon her death). Then Aishah fell ill. Her nephews consulted a physician from the Jatt people, who said: 'You describe a woman who has been bewitched — her slave woman has bewitched her.' Aishah was informed. She asked her slave, 'Did you bewitch me?' She said, 'Yes.' She asked, 'Why?' Then she said, 'You will never be freed.' Then she said: 'Sell her to the harshest of the Arabs to be her owner.'
الترجمة الأردية
عمرہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا نے اپنی ایک لونڈی کو مدبر کیا (یعنی اسے کہا کہ تم میری موت کے بعد آزاد ہو۔) اس کے بعد سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کی طبیعت خراب ہو گئی۔ آپ کے بھتیجوں نے ایک سوڈانی (ہندوستانی) قوم سے طبیب بلایا۔ اس نے کہا: تم لوگ ایسی عورت کے بارے میں بتا رہے ہو جس پر ان کی لونڈی نے جادو کر دیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کو اس کی خبر کی گئی۔ تو انہوں نے لونڈی سے پوچھا: تو نے مجھے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تم نے کیوں جادو کیا؟ اب تم کبھی بھی نجات نہیں پاؤ گی۔ پھر فرمایا: اسے کسی بدخو بدوی کے ہاتھ بیچ دو۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 120]
