العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكَنَّى: أَبَا عُمَيْرٍ، وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَآهُ حَزِينًا، فَقَالَ: مَا شَأْنُهُ؟ قِيلَ لَهُ: مَاتَ نُغَرُهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas said, "The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) visited us. I had a young brother who used the kunya of Abu 'Umayr. He had a sparrow which he used to play with it and it had died. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came it and saw that he was sad. He asked, 'What is wrong with him?' He was told, 'His sparrow has died.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Abu 'Umayr, what has happened to the little sparrow?'"
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابو عُمَیر تھی۔ اس کے پاس ایک چڑیا (نُغَیر) تھی جس سے وہ کھیلتا تھا اور وہ مر گئی تھی۔ آپ تشریف لائے اور دیکھا کہ وہ اداس ہے۔ آپ نے پوچھا: اسے کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کیا: اس کا نُغَیر (چڑیا) مر گیا ہے۔ آپ نے (اس کے ساتھ شفقت سے) فرمایا: اے ابو عُمَیر! نُغَیر کا کیا ہوا؟
