العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عِصَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ سُمَيْرٍ الأَلَهَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ بِجَمْعٍ مِنَ الْمَجَامِعِ، فَبَلَغَهُ أَنَّ أَقْوَامًا يَلْعَبُونَ بِالْكُوبَةِ، فَقَامَ غَضْبَانَ يَنْهَى عَنْهَا أَشَدَّ النَّهْيِ، ثُمَّ قَالَ: أَلاَ إِنَّ اللاَّعِبَ بِهَا لَيَأْكُلُ ثَمَرَهَا، كَآكِلِ لَحْمِ الْخِنْزِيرِ، وَمُتَوَضِّئٍ بِالدَّمِ. يَعْنِي بِالْكُوبَةِ: النَّرْدَ.
الترجمة الإنجليزية
Fadala ibn 'Ubayd was at a meeting when he heard that some people were playing backgammon. He got up in anger to forbid it in the strongest possible terms. Then he said, "The one who plays in order to live on his winnings is like a person who eats pig meat and does wudu' in blood."
الترجمة الأردية
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مجلس میں تھے جب انہوں نے سنا کہ کچھ لوگ نرد (چوسر) کھیل رہے ہیں۔ وہ غصے میں اٹھے اور سختی سے منع کیا۔ پھر فرمایا: جو شخص اس کی جیت پر گزارا کرنے کے لیے کھیلتا ہے وہ ایسا ہے جیسے سؤر کا گوشت کھائے اور خون سے وضو کرے۔
