العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ قَالَ: فِينَا نَزَلَتْ، فِي بَنِي سَلِمَةَ: {وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ}، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلاَّ لَهُ اسْمَانِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: يَا فُلاَنُ، فَيَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْهُ.
الترجمة الإنجليزية
Ad-Dahhak said, "It was about us (the Banu Salima) that these words were revealed, 'Do not find fault with one another' (49:11)" He went on to say, "The Beloved Messenger of Allah came to us and there was not a man among us who did not have two names. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) began to say, 'O so-and-so!' and they said, 'Beloved Messenger of Allah! That will make him angry!'"
الترجمة الأردية
حضرت ضحاک فرماتے ہیں: ہمارے (بنی سلمہ) کے بارے میں یہ الفاظ نازل ہوئے: ایک دوسرے میں عیب نہ نکالو (49:11)۔ فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ہم میں سے ہر شخص کے دو یا تین نام تھے۔ جب کسی کو کسی نام سے پکارا جاتا تو بتایا جاتا: یا رسول اللہ! اسے یہ نام پسند نہیں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔
