العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ قَالَ: أَرْسَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ غُلاَمًا لَهُ بِذَهَبٍ أَوْ بِوَرِقٍ، فَصَرَفَهُ، فَأَنْظَرَ بِالصَّرْفِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَجَلَدَهُ جَلْدًا وَجِيعًا وَقَالَ: اذْهَبْ، فَخُذِ الَّذِي لِي، وَلاَ تَصْرِفْهُ.
الترجمة الإنجليزية
Yazid ibn Hadrat 'Abdullah said, "'Abdullah ibn 'Umar sent a slave of his with some gold - or silver - and he changed it and deferred the exchange (i.e. he changed gold into silver or vice versa and did not take the money straightaway. This is haram.) Then he went back to Hadrat Ibn 'Umar who gave him a painful beating. He said, 'Go and take what is mine and do not exchange it!'"
الترجمة الأردية
حضرت یزید بن عبداللہ فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے ایک غلام کو کچھ سونا (یا چاندی) دے کر بھیجا۔ اس نے اسے بدلا اور ادائیگی مؤخر کر دی (یعنی سونے کو چاندی یا اس کے برعکس بدلا اور فوری تبادلہ نہیں کیا)۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اسے واپس کیا اور غلام کو بتایا کہ اللہ کے لیے ایسا معاملہ قبول نہ کرو جس میں تاخیر ہو۔
