العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، - الْمَعْنَى - عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ خَلْفَهُ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ " أَيُّكُمْ قَرَأَ " . قَالُوا رَجُلٌ . قَالَ " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ أَلَيْسَ قَوْلُ سَعِيدٍ أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ قَالَ ذَاكَ إِذَا جَهَرَ بِهِ . وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ . قَالَ لَوْ كَرِهَهُ نَهَى عَنْهُ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat 'Imran ibn Husayn (may Allah be well pleased with them both) narrates that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) led the Zuhr prayer. A man came and recited behind him 'Sabbihisma Rabbikal-A'la' (Surah al-A'la, Chapter 87). When he (blessings and peace of Allah be upon him) finished, he said: 'Which of you recited?' The people said: 'A man.' He said: 'I knew that one of you was contending with me in it.' Abu Dawud said: In Abu al-Walid's narration, Shu'bah said to Qatadah: 'Is Sa'id's saying not that one should remain silent for the Quran?' Qatadah said: 'That is when (the imam) recites aloud.' In Ibn Kathir's narration: 'I said to Qatadah: It seems he (blessings and peace of Allah be upon him) disliked it?' Qatadah said: 'Had he disliked it, he would have forbidden it.'
الترجمة الأردية
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ ایک شخص آیا اور اس نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى» (سورۃ الاعلیٰ) پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا: تم میں سے کس نے پڑھا؟ لوگوں نے کہا: ایک شخص نے۔ ارشاد فرمایا: مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ تم میں سے کسی نے مجھ سے اس میں جھگڑا کیا۔ ابوداود فرماتے ہیں: حضرت ابوالولید کی روایت میں شعبہ نے قتادہ سے کہا: کیا سعید کا قول یہ نہیں کہ قرآن کے لیے خاموش رہو؟ قتادہ نے کہا: وہ تو جب (امام) بلند آواز سے پڑھے (اس وقت کے لیے ہے)۔ ابنِ کثیر کی روایت میں ہے: میں نے قتادہ سے کہا: گویا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ناپسند کیا؟ قتادہ نے کہا: اگر ناپسند کرتے تو منع فرما دیتے۔
