العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الأُمَرَاءُ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) narrates that when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went out on the day of Eid (for prayer), he would order a lance to be placed in front of him. He (blessings and peace of Allah be upon him) would pray facing it with the people behind him. He (blessings and peace of Allah be upon him) used to do this during travel as well. This is why the rulers adopted the practice (of carrying a lance).
الترجمة الأردية
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب عید کے دن (نماز کے لیے) نکلتے تو نیزے کا حکم فرماتے، وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گاڑ دیا جاتا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف (رُخ کر کے) نماز پڑھتے اور لوگ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہوتے۔ سفر میں بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایسا ہی کرتے۔ اسی لیے حکمرانوں نے اسے (اپنے ساتھ نیزہ رکھنے کو) اپنا لیا۔
