العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالُوا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ تَرَى فِي هَذِهِ الآيَةِ الَّتِي أُمِرْنَا فِيهَا بِمَا أُمِرْنَا وَلاَ يَعْمَلُ بِهَا أَحَدٌ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلاَةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ ثَلاَثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلاَ عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ } قَرَأَ الْقَعْنَبِيُّ إِلَى { عَلِيمٌ حَكِيمٌ } قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ اللَّهَ حَلِيمٌ رَحِيمٌ بِالْمُؤْمِنِينَ يُحِبُّ السَّتْرَ وَكَانَ النَّاسُ لَيْسَ لِبُيُوتِهِمْ سُتُورٌ وَلاَ حِجَالٌ فَرُبَّمَا دَخَلَ الْخَادِمُ أَوِ الْوَلَدُ أَوْ يَتِيمَةُ الرَّجُلِ وَالرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ فَأَمَرَهُمُ اللَّهُ بِالاِسْتِئْذَانِ فِي تِلْكَ الْعَوْرَاتِ فَجَاءَهُمُ اللَّهُ بِالسُّتُورِ وَالْخَيْرِ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَعْمَلُ بِذَلِكَ بَعْدُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَعَطَاءٍ يُفْسِدُ هَذَا .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ikrimah narrates that some people from Iraq said: O Hadrat Ibn Abbas, what do you say about this verse which we have been commanded regarding, yet no one acts upon it — the saying of Allah, the Mighty and Majestic: 'O you who believe, let those whom your right hands possess and those who have not reached puberty among you ask permission of you at three times: before the dawn prayer, and when you put aside your garments at noon, and after the night prayer. These are three times of privacy for you. There is no blame upon you nor upon them beyond these times, as they circulate among you.' Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) said: Indeed Allah is Forbearing and Merciful to the believers; He loves concealment. The people's houses did not have curtains or canopies. Sometimes a servant or child or an orphan girl under a man's care would enter while the man was with his wife. So Allah commanded them to seek permission at those times of privacy. Then Allah blessed the people with curtains and goodness, so I have not seen anyone observe this practice afterwards. Abu Dawud said: The hadith of Ubaydullah and Ata' contradicts this (narration of Ikrimah).
الترجمة الأردية
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگوں نے عرض کیا: اے حضرت ابن عباس! اس آیت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جس میں ہمیں حکم دیا گیا لیکن کوئی اس پر عمل نہیں کرتا، یعنی اللہ عزوجل کا ارشاد: 'اے ایمان والو! تم سے تمہارے غلاموں اور نابالغ بچوں کو تین اوقات میں اجازت لینی چاہیے: نمازِ فجر سے پہلے، دوپہر کو جب تم اپنے کپڑے اتارتے ہو، اور نمازِ عشاء کے بعد۔ یہ تمہارے تین پردے کے اوقات ہیں، ان کے علاوہ نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ ان پر، وہ تمہارے پاس آتے جاتے ہیں۔' حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: بے شک اللہ مومنوں پر حلیم اور رحیم ہے، پردے کو پسند فرماتا ہے، لوگوں کے گھروں میں پردے اور حجلے نہیں ہوتے تھے، بسا اوقات خادم یا بچہ یا کسی شخص کی یتیم لڑکی داخل ہو جاتی اور آدمی اپنی بیوی کے پاس ہوتا، تو اللہ نے ان پردے کے اوقات میں اجازت مانگنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ نے لوگوں کو پردے اور بھلائی سے نوازا تو میں نے اس کے بعد کسی کو اس پر عمل کرتے نہیں دیکھا۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: عبید اللہ اور عطاء کی حدیث اس (عکرمہ والی روایت) کو فاسد کرتی ہے۔
