العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ يُونُسَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي يَسَارٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا بَالُ هَذَا " . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ . فَأُمِرَ بِهِ فَنُفِيَ إِلَى النَّقِيعِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَقْتُلُهُ فَقَالَ " إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ " . قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَالنَّقِيعُ نَاحِيَةٌ عَنِ الْمَدِينَةِ وَلَيْسَ بِالْبَقِيعِ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat AbuHurayrah that Am effeminate man (mukhannath) who had dyed his hands and feet with henna was brought to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He asked: What is the matter with this man? He was told: "Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! He imitates the look of women." So he issued an order regarding him and he was banished to an-Naqi'. The people said: Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Should we not kill him? He said: I have been prohibited from killing people who pray. AbuUsamah said: Naqi' is a region near Medina and not a Baqi
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ہجڑا لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا رکھی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ عورتوں جیسا بنتا ہے، آپ نے حکم دیا تو اسے نقیع کی طرف نکال دیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اسے قتل نہ کر دیں؟، آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے نماز پڑھنے والوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے نقیع مدینے کے نواح میں ایک جگہ ہے اس سے مراد بقیع ( مدینہ کا قبرستان ) نہیں ہے۔
