العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلاَلٍ، سَمِعَ أَبَاهُ، يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُنَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَجْلِسِ يُحَدِّثُنَا فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قَدْ دَخَلَ بَعْضَ بُيُوتِ أَزْوَاجِهِ فَحَدَّثَنَا يَوْمًا فَقُمْنَا حِينَ قَامَ فَنَظَرْنَا إِلَى أَعْرَابِيٍّ قَدْ أَدْرَكَهُ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ فَحَمَّرَ رَقَبَتَهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَكَانَ رِدَاءً خَشِنًا فَالْتَفَتَ فَقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ احْمِلْ لِي عَلَى بَعِيرَىَّ هَذَيْنِ فَإِنَّكَ لاَ تَحْمِلُ لِي مِنْ مَالِكَ وَلاَ مِنْ مَالِ أَبِيكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لاَ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لاَ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لاَ أَحْمِلُ لَكَ حَتَّى تُقِيدَنِي مِنْ جَبْذَتِكَ الَّتِي جَبَذْتَنِي " . فَكُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ لَهُ الأَعْرَابِيُّ وَاللَّهِ لاَ أَقِيدُكَهَا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ دَعَا رَجُلاً فَقَالَ لَهُ " احْمِلْ لَهُ عَلَى بَعِيرَيْهِ هَذَيْنِ عَلَى بَعِيرٍ شَعِيرًا وَعَلَى الآخَرِ تَمْرًا " . ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ " انْصَرِفُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ تَعَالَى " .
الترجمة الإنجليزية
Hilal narrates that Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) said whilst narrating to us: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) used to sit with us in gatherings and converse with us. When he would stand up, we too would stand until we saw him enter the chamber of one of his blessed wives. One day he spoke with us, and when he stood up we also stood up, and we saw that a Bedouin Arab had caught hold of him and pulled at his cloak so forcefully that his blessed neck turned red. Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) said: It was a coarse cloak. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) turned towards him, and the Bedouin said: Load these two camels of mine, for you are not loading from your own wealth nor from your father's wealth. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: No, and I seek Allah's forgiveness; no, and I seek Allah's forgiveness; no, and I seek Allah's forgiveness. I shall not load for you until you grant me recompense for your pulling. But the Bedouin kept saying each time: By Allah, I shall not grant you recompense for it. Then the narrator mentioned the rest of the hadith, saying: He (blessings and peace of Allah be upon him) then called a man and stated to him: Load his two camels — one with barley and the other with dates. Then he turned to us and stated: Go forth with the blessing of Allah, the Exalted.
الترجمة الأردية
ہلال بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم سے بیان فرماتے ہوئے کہا: نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ساتھ مجلس میں تشریف فرما ہوتے اور ہم سے گفتگو فرماتے، جب آپ کھڑے ہوتے تو ہم بھی کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ ہم دیکھ لیتے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواجِ مطہرات میں سے کسی کے حجرے میں داخل ہو گئے ہیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے گفتگو فرمائی، جب آپ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے، ہم نے دیکھا کہ ایک اعرابی نے آپ کو پکڑ لیا اور آپ کی چادر مبارک سے کھینچا جس سے آپ کی گردنِ مبارک سرخ ہو گئی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: وہ ایک کھردری چادر تھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اعرابی نے کہا: میرے ان دونوں اونٹوں پر (غلہ) لاد دو کیونکہ تم نہ اپنے مال سے لادو گے نہ اپنے باپ کے مال سے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں، اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، میں تمہارے لیے نہیں لادوں گا جب تک تم مجھے اپنے اس کھینچنے کا بدلہ نہ دے دو۔ لیکن اعرابی ہر بار یہی کہتا رہا: اللہ کی قسم میں تمہیں اس کا بدلہ نہیں دوں گا۔ پھر راوی نے حدیث ذکر کی، کہا: پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو بلایا اور ارشاد فرمایا: اس کے دونوں اونٹوں پر لاد دو، ایک اونٹ پر جَو اور دوسرے پر کھجور۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی برکت پر جاؤ۔
