العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ أَنْ حَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى، عَلَيْهِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الآيَةَ وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَوَاضِعِهَا { عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ } قَالَ عَنْ خَالِدٍ وَإِنَّا سَمِعْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ " . وَقَالَ عَمْرٌو عَنْ هُشَيْمٍ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لاَ يُغَيِّرُوا إِلاَّ يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ كَمَا قَالَ خَالِدٌ أَبُو أُسَامَةَ وَجَمَاعَةٌ . وَقَالَ شُعْبَةُ فِيهِ " مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَعْمَلُهُ " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Bakr that You people recite this verse "You who believe, care for yourselves; he who goes astray cannot harm you when you are rightly-guided," and put it in its improper place. Khalid's version has: We heard the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) say: When the people see a wrongdoer and do not prevent him, Allah will soon punish them all. Amr ibn Hushaym's version has: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: If acts of disobedience are done among any people and do not change them though the are able to do so, Allah will soon punish them all. Adu Dawud (upon him be peace) said: This tradition has also been transmitted by Abu Hadrat Usamah and a group transmitters similar to the version narrated by Khalid. The version of Shu'bah has: "If acts of obedience are done among any people who are more numerous than those who do them
الترجمة الأردية
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگو! تم آیت کریمہ «عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو اپنی فکر کرو جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ( سورۃ المائدہ: ۱۰۵ ) پڑھتے ہو اور اسے اس کے اصل معنی سے پھیر کر دوسرے معنی پر محمول کر دیتے ہو۔ وھب کی روایت جسے انہوں نے خالد سے روایت کیا ہے، میں ہے: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں، اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے ۔ اور عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے ہشیم سے روایت کی ہے مذکور ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: جس قوم میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں، پھر وہ اسے روکنے پر قادر ہو اور نہ روکے تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب میں گرفتار کر لے ۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: اور اسے ابواسامہ اور ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے خالد نے کیا ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: اس میں یہ بات بھی ہے کہ ایسی کوئی قوم نہیں جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور زیادہ تر افراد گناہ کے کام میں ملوث ہوں اور ان پر عذاب نہ آئے۔
