العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لاَ بَأْسَ بِالْقَرَامِلِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ الْمَنْهِيَّ، عَنْهُ شُعُورُ النِّسَاءِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ أَحْمَدُ يَقُولُ الْقَرَامِلُ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Sa'id ibn Jubayr (upon him be mercy) said: There is no harm in adding (false) hair. Abu Dawud (upon him be mercy) said: He meant adding wool, cotton threads, or the like (not human hair). Abu Dawud (upon him be mercy) said: Ahmad ibn Hanbal (upon him be mercy) was asked about a woman tying cords in her hair. He said: If it is something other than hair (such as a cord), there is no harm. I asked him: Is this concerning hair sold for purchase? He said: No.
الترجمة الأردية
حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بال جوڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وہ اسے اس مفہوم میں بیان کرنا چاہتے تھے کہ اون، روئی وغیرہ جوڑنا (نہ کہ بال)۔ حضرت ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے عورت کے بالوں میں ڈوری باندھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ بالوں کے علاوہ کسی اور چیز (جیسے ڈوری) سے ہو تو حرج نہیں ہے۔ میں نے ان سے پوچھا: کیا یہ خریداری کے لیے فروخت ہونے والے بال ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔
