العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي نَبْهَانُ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْتَجِبَا مِنْهُ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَعْمَى لاَ يُبْصِرُنَا وَلاَ يَعْرِفُنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا لأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً أَلاَ تَرَى إِلَى اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ " اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ " .
الترجمة الإنجليزية
Umm al-Mu'minin Hadrat Umm Salamah (may Allah be well pleased with her) narrates: I was with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and Umm al-Mu'minin Hadrat Maymunah (may Allah be well pleased with her) was also with him, when Hadrat Ibn Umm Maktum (may Allah be well pleased with him) came — this was after the command of veiling had been revealed. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Observe veiling from him, both of you. We submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), is he not blind? He can neither see us nor recognise us. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Are you both blind as well? Do you not see him? Abu Dawud (upon him be mercy) said: This ruling was specific to the wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Do you not see that Hadrat Fatimah bint Qays (may Allah be well pleased with her) observed her waiting period at the house of Hadrat Ibn Umm Maktum (may Allah be well pleased with him)? The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had said to Hadrat Fatimah bint Qays (may Allah be well pleased with her): Observe your waiting period at the house of Ibn Umm Maktum, for he is blind; you may put off your garments in his presence.
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین اُمّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھی اور آپ کے پاس حضرت اُمّ المؤمنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تھیں، اتنے میں حضرت ابن اُمّ مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے — یہ واقعہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے — تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا وہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں نہ پہچان سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم دونوں بھی اندھی ہو؟ کیا تم اُنہیں نہیں دیکھتیں؟ حضرت ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ حکم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے لیے خاص تھا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابن اُمّ مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس عدّت گزاری تھی؟ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا تھا: ابن اُمّ مکتوم کے پاس عدّت گزارو، کیونکہ وہ نابینا ہیں، تم ان کے پاس اپنے کپڑے اتار سکتی ہو۔
