العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ زَكَرِيَّا، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَسْلَمَ ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدِهِ فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ عِنْدَهُمْ رَجُلٌ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ فَقَالَ أَهْلُهُ إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ فَهَلْ عِنْدَكَ شَىْءٌ تُدَاوِيهِ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ فَأَعْطُونِي مِائَةَ شَاةٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " هَلْ إِلاَّ هَذَا " . وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ " هَلْ قُلْتَ غَيْرَ هَذَا " . قُلْتُ لاَ . قَالَ " خُذْهَا فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ " .
الترجمة الإنجليزية
Kharijah ibn al-Salt al-Tamimi (upon him be mercy) narrates from his uncle (Hadrat Alaqah ibn Sahar, may Allah be well pleased with him) that he came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and embraced Islam. Then on his return, he passed by a people among whom there was a madman fettered in iron chains. His family said: We have been told that your companion (the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), blessings and peace of Allah be upon him) has brought goodness. Do you have anything with which you can treat our (sick one)? So I recited Surah al-Fatihah over him, and he was cured. They gave me a hundred sheep. I then came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and informed him. He (blessings and peace of Allah be upon him) asked: Did you recite only this? — In another narration of Musaddad: Did you say anything other than this? — I submitted: No. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Take them! By my life, there are those who eat by means of false incantation, but you have eaten by means of a true incantation.
الترجمة الأردية
خارجہ بن صلت تمیمی رحمۃ اللہ علیہ اپنے چچا (حضرت علاقہ بن صحار رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا، پھر واپسی پر ایک قوم کے پاس سے گزرے جن میں ایک دیوانہ آدمی لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کے گھر والوں نے کہا: ہمیں بتایا گیا ہے کہ آپ کے یہ ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) خیر لے کر آئے ہیں، کیا آپ کے پاس کوئی چیز ہے جس سے آپ ہمارے اس (مریض) کا علاج کر سکیں؟ پس میں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ اچھا ہو گیا۔ انہوں نے مجھے سو بکریاں دیں، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے بس یہی پڑھا؟ — مسدد کی ایک دوسری روایت میں ہے: کیا تم نے اس کے علاوہ کچھ اور پڑھا؟ — میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لے لو! میری عمر کی قسم، کچھ لوگ باطل جھاڑ پھونک کر کے کھاتے ہیں اور تم نے تو حق دم سے کھایا ہے۔
