العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ أَبُو عَامِرٍ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا قَالَ مُحَمَّدٌ - حَدَّثَنَا شَيْخٌ، مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - أَوْ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ ابْنُ عِيسَى هَكَذَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، - قَالَ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى { وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ } وَيُبَايَعُ الْمُضْطَرُّونَ وَقَدْ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ وَبَيْعِ الْغَرَرِ وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ .
الترجمة الإنجليزية
A Shaykh from Banu Tamim said: Hadrat Ali ibn Abi Talib (may Allah be well pleased with him) addressed us — or he said: Hadrat Ali (may Allah be well pleased with him) said — that a difficult time will come upon people when the wealthy will cling tightly to what is in their hands, though they were not commanded to do so. Allah Most High has said: 'And do not forget graciousness among yourselves.' And the desperate will be made to trade, yet the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had forbidden the sale of the desperate, the sale of gharar (deception), and the sale of fruits before they ripen.
الترجمة الأردية
بنی تمیم کے ایک شیخ فرماتے ہیں: حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ہمیں خطبہ دیا — یا فرمایا: حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا — کہ لوگوں پر ایک سخت زمانہ آئے گا جس میں مالدار اپنے مال کو سختی سے پکڑے رکھے گا حالانکہ اسے ایسا حکم نہیں دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: «وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ» (آپس میں احسان کرنا مت بھولو)۔ اور مجبور لوگوں سے خریدو فروخت کی جائے گی حالانکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجبور سے خرید و فروخت، دھوکے کی بیع، اور پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
