العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي كِلاَبًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ كَانَ لَكَ كِلاَبٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ " . قَالَ ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ قَالَ " وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي . قَالَ " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ " . قَالَ " ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ " . قَالَ وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّي قَالَ " وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَصِلَّ أَوْ تَجِدَ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِكَ " . قَالَ أَفْتِنِي فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِنِ اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا . قَالَ " اغْسِلْهَا وَكُلْ فِيهَا " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abdullah ibn Amr ibn al-As (may Allah be well pleased with them both) that a bedouin called Abu Tha'labah submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I have trained hunting dogs. Tell me the ruling regarding their game. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: If you have trained dogs, eat whatever they catch for you. He submitted: Whether I can slaughter it or not? He stated: Yes. He submitted: Even if they eat from it? He stated: Even if they eat from it. Then he submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), tell me the ruling regarding my bow (i.e., game hunted by arrow). He stated: Eat whatever your bow returns to you, whether you can slaughter it or not. He submitted: Even if it goes out of my sight? He stated: Even if it goes out of your sight, as long as it has no stench and you find no mark on it other than that of your arrow. He submitted: Tell me about the vessels of the Magians when we are compelled to use them. He stated: Wash them and eat from them.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ابوثعلبہ نامی ایک دیہاتی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس سدھائے ہوئے شکاری کتے ہیں، ان کے شکار کا حکم بتائیے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تمہارے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں اسے کھاؤ۔ انہوں نے عرض کیا: خواہ ذبح ہو سکے یا نہ ہو سکے؟ ارشاد فرمایا: ہاں۔ عرض کیا: اگرچہ وہ اس میں سے کھا لیں؟ ارشاد فرمایا: اگرچہ وہ اس میں سے کھا لیں۔ پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے تیر کمان سے شکار کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا تیر کمان جو شکار تمہیں لوٹا دے اسے کھاؤ، خواہ ذبح ہو سکے یا نہ ہو سکے۔ عرض کیا: اگرچہ شکار میری نظروں سے اوجھل ہو جائے؟ ارشاد فرمایا: اگرچہ اوجھل ہو جائے جب تک اس میں بدبو نہ آئے اور تمہارے تیر کے سوا کوئی اور نشان اس پر نہ ہو۔ عرض کیا: مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں بتائیے جب ہم ان کے استعمال پر مجبور ہوں۔ ارشاد فرمایا: انہیں دھو ڈالو اور ان میں کھاؤ۔
