العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْهُمْ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلُ - قَالَ - فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ " أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ قَالَ " لاَ تَرَاءَى نَارَاهُمَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ هُشَيْمٌ وَمُعْتَمِرٌ وَخَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ وَجَمَاعَةٌ لَمْ يَذْكُرُوا جَرِيرًا .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Jarir ibn Abdullah (may Allah be well pleased with him) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent a military detachment to Khath'am. Some people among them sought protection by prostrating (showing they were Muslims), but they were quickly killed. When this reached the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), he ordered that half the blood-money be paid for them and stated: "I am free of every Muslim who resides among the polytheists." They submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), why? He stated: "Their fires should not be visible to each other (meaning they should not dwell together)." Abu Dawud (upon him be mercy) said: Hushaym, Mu'tamir, Khalid al-Wasiti, and a group narrated it without mentioning Jarir.
الترجمة الأردية
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سریّہ خثعم کی طرف بھیجا۔ وہاں کچھ لوگوں نے سجدے میں گر کر (اسلام ظاہر کر کے) اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی مگر ان میں تیزی سے قتل ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے لیے آدھی دیت کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا: "میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہے۔" صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیوں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: "ان دونوں (مسلمان اور مشرک) کی آگ ایک دوسرے کو نظر نہ آئے (یعنی ان کی رہائش ایک ساتھ نہ ہو)۔" حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: اسے ہشیم، معتمر، خالد واسطی اور ایک جماعت نے روایت کیا ہے جنہوں نے جریر کا ذکر نہیں کیا۔
