العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ الْخَبِيرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهَا أُمُّ خَلاَّدٍ وَهِيَ مُنْتَقِبَةٌ تَسْأَلُ عَنِ ابْنِهَا وَهُوَ مَقْتُولٌ فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جِئْتِ تَسْأَلِينَ عَنِ ابْنِكِ وَأَنْتِ مُنْتَقِبَةٌ فَقَالَتْ إِنْ أُرْزَإِ ابْنِي فَلَنْ أُرْزَأَ حَيَائِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ابْنُكِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ " . قَالَتْ وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " لأَنَّهُ قَتَلَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Qays ibn Shammas (may Allah be well pleased with him) narrated through his grandson that a woman called Umm Khallad came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) wearing a veil, asking about her son who had been killed (in battle). Some of the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to her: "You come asking about your son while wearing a veil?" She replied: "Even if I have lost my son, I shall not lose my modesty." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) then stated: "Your son shall receive the reward of two martyrs." She submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), why is that?" He stated: "Because he was killed by the People of the Book."
الترجمة الأردية
حضرت قیس بن شماس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کے پوتے کی روایت ہے کہ ایک خاتون جنہیں اُمّ خلاد کہا جاتا تھا، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں نقاب پہنے ہوئے حاضر ہوئیں اور اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھنے لگیں جو شہید ہو چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ کرام نے ان سے کہا: تم اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھنے آئی ہو حالانکہ تم نقاب لگائے ہوئے ہو! تو انہوں نے فرمایا: اگر میں اپنے بیٹے سے محروم ہو گئی تو اپنی حیاء سے محروم نہیں ہوں گی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تمہارے بیٹے کو دو شہیدوں کا اجر ملے گا۔" انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اس لیے کہ اسے اہلِ کتاب نے قتل کیا ہے۔"
