العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ . قَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ وَقَالَ " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ . فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ " . يُرَدِّدُهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Sa'id bin Jubayr said: 'I asked Hadrat Ibn 'Umar (may Allah be well pleased with them both): "A man accuses his wife of adultery — what is the ruling?" He replied: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) separated the two (husband and wife) of Banu al-'Ajlan, and stated: 'Allah knows that one of you is certainly a liar. Will one of you repent?' He repeated these words three times, but they both refused. So he separated them."'
الترجمة الأردية
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عرض کیا: ایک شخص اپنی بیوی پر (زنا کی) تہمت لگائے (تو کیا حکم ہے)؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عجلان کے (میاں بیوی) دونوں کے درمیان تفریق فرما دی اور ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ الفاظ تین مرتبہ دہرائے، لیکن دونوں نے انکار کیا، تو آپ نے ان کے درمیان تفریق فرما دی۔
