العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ، - فِي آخَرِينَ - قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ وَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ وَاحِدَةً " . فَقَالَ رُكَانَةُ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً . فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَوَّلُهُ لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ وَآخِرُهُ لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Rukanah ibn Abd Yazid (may Allah be well pleased with him) narrates that he divorced his wife Suhaymah with an irrevocable divorce (al-battah). He then informed the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) about it and submitted: By Allah, I intended only one divorce. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "By Allah, you intended only one?" Rukanah submitted: By Allah, I intended only one. So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) returned her to him. He then divorced her the second time during the era of Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) and the third time during the era of Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him). Abu Dawud (upon him be mercy) said: Its beginning is in the wording of Ibrahim and its ending in the wording of Ibn al-Sarh.
الترجمة الأردية
حضرت رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاقِ بتّہ دے دی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی اور عرض کیا: اللہ کی قسم! میری نیت صرف ایک طلاق کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! تیری نیت صرف ایک ہی کی تھی؟ رکانہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میری نیت صرف ایک ہی کی تھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بیوی اسے واپس لوٹا دی۔ پھر رکانہ نے اسے دوسری طلاق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں دی اور تیسری حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں دی۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: اس کی ابتدا ابراہیم کے الفاظ میں ہے اور آخر ابن السرح کے الفاظ میں۔
