العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - وَهَذَا لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُحَىٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَعْظَمَ الأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ " . قَالَ عِيسَى قَالَ ثَوْرٌ وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي . قَالَ وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا - قَالَ فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ مَا قَالَ - قَالَ " مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abdullah ibn Qurt (may Allah be well pleased with him) narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Indeed, the greatest of days in the sight of Allah, Blessed and Exalted is He, is the Day of Sacrifice (10th Dhul-Hijjah), then the Day of Rest (11th Dhul-Hijjah).' Isa said: Thawr said: It is the second day. He said: Five or six sacrificial camels were brought near to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and they began to draw close to him, each one vying to be the first he would begin with. When they fell upon their sides (after being slaughtered) — he said: He spoke a word quietly that I could not understand, so I asked, 'What did he say?' He said: 'Whoever wishes may cut off a portion.'
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یومِ نحر (دسویں ذی الحجہ) ہے، پھر یومِ قرّ (گیارہویں ذی الحجہ، جو ٹھہرنے کا دن ہے)۔ عیسیٰ نے کہا: ثور نے فرمایا: یہ دوسرا دن ہے۔ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ لائے گئے، تو وہ آپ کے قریب آنے لگے کہ آپ ان میں سے کس سے شروع فرمائیں۔ جب وہ (نحر کے بعد) اپنے پہلوؤں پر گرے — فرماتے ہیں: آپ نے ایک آہستہ بات ارشاد فرمائی جو میں نہ سمجھ سکا، تو میں نے پوچھا: آپ نے کیا فرمایا؟ فرمایا: جو چاہے کاٹ لے۔
