العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ فَجَعَلَ يَصْرِفُهَا يَمِينًا وَشِمَالاً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لاَ ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لاَ زَادَ لَهُ " . حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لاَ حَقَّ لأَحَدٍ مِنَّا فِي الْفَضْلِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) narrates: 'We were travelling with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when a man came riding his she-camel, driving her to the right and left. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Whoever has a spare mount, let him give it to the one who has none; and whoever has surplus provisions, let him give them to the one who has none." He continued mentioning various kinds of property until we thought that none of us had any right to surplus possessions.'
الترجمة الأردية
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں: ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اتنے میں ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار آیا اور اسے دائیں بائیں پھیرنے لگا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے پاس فاضل (ضرورت سے زائد) سواری ہو تو چاہیے کہ وہ اسے اس شخص کو دے دے جس کے پاس سواری نہ ہو، اور جس کے پاس فاضل توشہ ہو تو چاہیے کہ وہ اسے اس شخص کو دے دے جس کے پاس توشہ نہ ہو۔ (حضرت ابو سعید فرماتے ہیں:) یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ ہم میں سے کسی کو بھی فاضل (ضرورت سے زائد) چیز میں کوئی حق نہیں رہتا۔
